
پاکستان نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یکطرفہ اور حقائق سے منافی قرار دیا ہے۔ کابل میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن افغان طالبان حکومت کے پروپیگنڈے کی ترجمانی کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرحد پار کی جانے والی تمام تر فوجی کارروائیاں خالصتاً دہشت گردوں کے مخصوص ٹھکانوں کے خلاف اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کی گئی ہیں۔
افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کا تناظر
سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی تنظیمیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ ان گروہوں کو افغانستان میں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں اور مالی وسائل میسر ہیں، بلکہ وہاں سے سرحد پار حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
پاکستان کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے ہونے والی ان پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 900 سے زائد پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 1,500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
‘آپریشن غضب للحق’ اور جوابی اقدامات
سفارت خانے نے واضح کیا کہ رواں سال فروری میں شروع کیے گئے ‘آپریشن غضب للحق’ سے لے کر مئی اور جون کے دوران کی جانے والی کارروائیاں، پاکستان پر ہونے والے مسلسل حملوں کا ناگزیر ردعمل تھیں۔
- پشاور، بنوں اور وزیرستان کے بعد کارروائی: مئی اور جون میں پشاور، شمالی وزیرستان اور بنوں میں ہونے والے حملوں کے بعد پاک فوج نے ٹی ٹی پی کے تربیتی کیمپوں اور کمانڈروں کے مراکز پر سٹرائیکس کیں، جن میں 26 دہشت گرد مارے گئے۔
- کراچی حملہ اور افغان شہریوں کی شمولیت: 27 جون کو کراچی میں ہونے والے حملے کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ چار میں سے تین حملہ آور افغان شہری تھے اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں پاک فوج نے جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں پر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کرتے ہوئے 25 مزید دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور ان کے اسلحہ خانے تباہ کر دیے۔
بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور شہریوں کا تحفظ
یو این اے ایم اے کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے خدشات کو یکسر رد کرتے ہوئے پاکستان نے کہا کہ اس کی مسلح افواج بین الاقوامی قوانین بالخصوص تمیز (Distinction) اور تناسب (Proportionality) کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرتی ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق تمام سٹرائیکس انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف انہی مخصوص مقامات پر کی گئیں جہاں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ اور کمانڈ سینٹرز موجود تھے، تاکہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اسلام آباد کا کابل کے لیے واضح پیغام
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ سفارتی سطح پر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی اور کابل انتظامیہ سے بارہا دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی درخواست کی، لیکن افغان سرزمین سے دراندازی کا سلسلہ نہ رک سکا۔
بیان کے اختتام پر اسلام آباد نے ایک بار پھر کابل کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار بین الاقوامی رکن کا کردار ادا کرے، اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی بند کرے۔