
)ویب ڈیسک): پاکستان نے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے بلوچستان کے پانچ حساس اضلاع میں 5 روزہ خصوصی پولیو ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے ‘ریڈیو پاکستان’ کے مطابق، اس مہم کے دوران 10 سال سے کم عمر کے 3 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
مہم کے اہم نکات اور کوریج
- متاثرہ اضلاع: یہ خصوصی مہم بلوچستان کے پانچ اہم اضلاع—کوئٹہ، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، اور برشور—میں چلائی جا رہی ہے۔
- پولیو ٹیمیں: مہم کی کامیابی اور گھر گھر پہنچ کو یقینی بنانے کے لیے 1,200 سے زائد ویکسینیشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
- ملک گیر پیشرفت: پاکستان میں رواں سال (2026) کے دوران پولیو کے صرف 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 2 کا تعلق خیبر پختونخوا (KP) اور 1 کا سندھ سے ہے۔
درپیش چیلنجز اور وائرس کی صورتِ حال
- عالمی صورتِ حال: پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔
- تاریخی کامیابی: 1994 میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام شروع ہونے کے بعد سے پاکستان نے اس وائرس کے کیسز میں 99.8 فیصد تک کمی کی ہے۔ 1990 کی دہائی میں جہاں سالانہ 20,000 کیسز رپورٹ ہوتے تھے، وہیں 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 31 رہ گئی تھی۔
- حفاظتی اور سماجی رکاوٹیں: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیو ٹیموں کو جعلی پروپیگنڈے، لوگوں کے انکار، اور پولیو ورکرز و سیکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صحت کے عالمی اداروں اور پاکستان کے طبی ماہرین نے ویکسین کے حوالے سے پھیلائے جانے والے تمام منفی بیانیوں کی سختی سے تردید کی ہے اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے انہیں پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔



