پاکستان کی خود مختاری اور قومی سلامتی: دوغلی سیاست کا خاتمہ اور ریاستی رٹ

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

کسی بھی خود مختار ریاست کی بقا، سلامتی اور وقار کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر کرے اور ملکی مفادات کو ہر شے پر مقدم رکھے۔ حالیہ عرصے میں پاکستانی تعلیمی اداروں سے غیر ملکی (بالخصوص افغان) طلباء کے اخراج کے معاملے پر جو سیاسی طوفان اٹھایا گیا ہے، اس نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی ایک حد ہوتی ہے، لیکن ریاست کی سلامتی اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انتخابی پروپیگنڈا اور نظریاتی تعصب

ہمارے سیاسی منظر نامے پر کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جن کا شیوہ ہی ریاست مخالف بیانیہ تشکیل دینا ہے۔ محسن داوڑ اور ان کے ہمنوا سیاستدان جب بھی بولتے ہیں، ان کی زبان پر ہمیشہ سرحد پار کے غیر ملکی عناصر کے حقوق ہوتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی عناصر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ان جوانوں کی قربانیوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں جو دن رات اس ملک کی حفاظت کے لیے اپنا لہو بہا رہے ہیں۔ معصوم پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے، ان کا خون بہایا جائے—ان کی طرف سے کبھی مذمت کا ایک لفظ بھی نہیں نکلتا۔ یہ روش کسی سیاسی اصول یا نظریے کی نہیں، بلکہ ایک متعصبانہ اور مذموم ایجنڈے کی غماز ہے۔

ریاستی وسائل کا استحصال اور اعتماد کا خون

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے جمہوری نظام، پارلیمنٹ کی نشستوں، سرکاری انفراسٹرکچر اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے فائدہ اٹھانے والے یہی لوگ سب سے پہلے ریاست کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت حلف اٹھانا اور پھر اسی آئین اور ریاست کے خلاف لسانی اور قوم پرست کارڈ کھیلنا قومی فریضے اور عوامی اعتماد کے ساتھ صریح غداری ہے۔ جو لوگ اس ملک کی روٹی کھاتے ہیں اور گیت غیروں کے گاتے ہیں، ان کا محاسبہ اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔

قومی خود مختاری پر غیر ملکی مفادات کی ترجیح

غیر ملکی طلباء کے داخلوں اور ان کے قانونی اخراج کے معاملے پر پی ٹی ایم (PTM) اور دیگر ہم خیال جماعتوں کی ہنگامہ آرائی نے ان کی اصل ترجیحات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کا اندرونی امن اور استحکام کوئی اہمیت نہیں رکھتا، بلکہ ان کی تمام تر توانائیاں غیر ملکیوں کی ڈھال بننے پر صرف ہوتی ہیں۔ معمول کے بارڈر کنٹرول، امیگریشن قوانین اور سیکیورٹی اقدامات کو “غیر انسانی” قرار دینا دراصل بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے اور ملکی دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

قومی سلامتی اور قبل از وقت خطرات کا سدباب

ایک ذمہ دار ریاست اندھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہ سکتی۔ موجودہ علاقائی صورتحال اور سرحد پار سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں، پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ممکنہ خطرے اور داخلی کمزوری کا سدباب کریں۔ انٹیلی جنس رپورٹس اور قانون کی سخت عملداری یہ تقاضا کرتی ہے کہ کسی بھی ایسے عنصر کو پنپنے کا موقع نہ دیا جائے جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکے۔ قبل از وقت حفاظتی اقدامات ہی کسی بڑے سانحے کو روک سکتے ہیں۔

قانونی ضابطے اور خود مختار سرحدی اصول

دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے دروازے غیر مشروط طور پر ہر خاص و عام کے لیے نہیں کھول دیتا۔ غیر ملکی شہریوں کو تعلیم یا روزگار کے مواقع فراہم کرنا میزبان ریاست کا اخلاقی فعل یا اعزاز ہوتا ہے، کوئی پیدائشی حق نہیں۔ جب ویزا ضوابط کی خلاف ورزی ہو، تعلیمی اداروں کے پلیٹ فارم کو سیاسی یا تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، یا قانونی دستاویزات نامکمل ہوں، تو ریاست قانون کے مطابق کارروائی کرنے میں حق بجانب ہے۔ قومیت سے بالاتر ہو کر قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

اسٹریٹجک توازن اور دوطرفہ تعلقات

پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی کڑے اقتصادی حالات اور وسائل کی شدید کمی کے باوجود لاکھوں افغان مہمانوں کی میزبانی کی، انہیں پناہ دی اور ہزاروں طلباء کو مکمل فنڈز پر اسکالرشپس فراہم کیں۔ تاہم، یہ مہمان نوازی یکطرفہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے باہمی احترام اور ذمہ داری کا احساس شرط ہے۔ پاکستان اس بات کا ہرگز پابند نہیں ہے کہ وہ ایسی پڑوسی حکومت کے شہریوں کو اپنے وسائل پر پلائے جو ایک طرف پاکستان مخالف پالیسیاں پروان چڑھائے اور دوسری طرف اپنے ہی ملک میں معصوم بیٹیوں اور خواتین کی تعلیم پر پابندیوں کے سیاہ ترین دور مسلط کرے۔

ملکی اتحاد اور پروپیگنڈے کا قلع قمع

جب ریاست کے وسائل پر پلنے والے لوگ ہی اندر بیٹھ کر پروپیگنڈا وار کا حصہ بن جائیں، تو ریاست کو بحیثیت مجموعی سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو انتہا پسندی، لسانی تعصب اور ریاست مخالف بیانیے کی آماجگاہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ ہر حب الوطن پاکستانی کا اولین فریضہ ہے، اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی ملکی سالمتی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

سیاستدانوں کی جواب دہی اور ریاستی رٹ

اب وقت آ گیا ہے کہ ان سیاستدانوں کی جواب دہی کی جائے جو پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کر کے ملکی اداروں کو بدنام کرتے ہیں اور غیر ملکی ایجنڈے کو فروغ دیتے ہیں۔ پبلک آفس ہولڈرز کا بنیادی فرض پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ بیرونی عناصر کی وکالت کرنا۔ دوغلی سیاست کا یہ کھیل اب مزید نہیں چل سکتا۔ جب تک ریاست اپنی رٹ پوری سختی سے بحال نہیں کرے گی، اندرونی استحکام خواب ہی رہے گا۔

وسائل کا درست استعمال اور عوام کا حق

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، میڈیکل کالجز اور پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کی نشستیں براہِ راست غریب پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے چلتی ہیں۔ ان وسائل پر سب سے پہلا حق پاکستان کے اپنے بیٹوں اورٹی بیٹیوں کا ہے۔ غیر قانونی یا ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے طلباء کے اخراج سے جو جگہ خالی ہوگی، اسے پاکستانی نوجوانوں کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔ جو غیر ملکی طلباء اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں، وہ تمام قانونی تقاضے پورے کر کے یا باضابطہ این او سی (NOC) لے کر دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کا رُخ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

ریاست کا فیصلہ بالکل واضح ہے: پاکستان پہلے ہے، قانون سب سے اوپر ہے، اور قومی خود پر کسی قسم کا سودا ناقابلِ قبول ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »