پاکستان کا قومی اور معاشی مستقبل بلا شبہ بلوچستان کی ترقی اور استقامت سے جڑا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے اور وسائل سے مالا مال صوبے کے پاس نہ صرف معدنی دولت اور وسیع ساحل ہیں، بلکہ یہاں کے محب وطن اور باصلاحیت عوام اس دھرتی کا اصل اثاثہ ہیں۔ حال ہی میں سول اور ملٹری قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اعلانات نے بلوچستان کے حوالے سے ریاست کے ایک واضح اور جامع موقف کو سامنے رکھا ہے۔

قیادت کا مشترکہ ویژن اور “گرینڈ ڈائیلاگ”
ایک طرف پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بلوچستان کی سیاسی قیادت اور معززین سے اہم نشست ہوئی، جہاں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ کسی اور کے نہیں بلکہ صرف اور صرف یہاں کے باصلاحیت اور غیور عوام کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی، وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مسائل کے دائمی حل کے لیے ایک تاریخ ساز “گرینڈ ڈائیلاگ” کی تجویز پیش کر دی ہے۔
اس اہم پیغام کا بنيادی نچوڑ یہ ہے:
- وسائل پر عوام کا حق: بلوچستان کے تمام قدرتی وسائل اور معدنیات پر سب سے پہلا حق وہاں کے مقامی عوام کا ہے۔
- مشاورت سے حل: تمام درپیش چیلنجز اور مسائل کو باہم گفتگو، ڈائیلاگ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
- نوجوانوں کو بااختیار بنانا: صوبے کے نوجوان قوم کا سب سے متحرک حصہ ہیں، جنہیں ترقی کے عمل میں شریک کرنا لازمی ہے۔
دشمن کی سازشیں اور پراکسیز کا خاتمہ
جب ریاست ڈائیلاگ اور ترقی کی بات کر رہی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کے امن میں رکاوٹ کون ڈال رہا ہے؟ قیادت نے واضح کیا ہے کہ “فتنۃ الخوارج” اور “فتنۃ الہندوستان” جیسے غیر ملکی مالی اعانت یافتہ عناصر اور ان کے پشت پناہ (دشمن ممالک جیسے بھارت) اس خطے کے امن کو داؤ پر لگانے اور معاشی بازو کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔
مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانا، شناخت دیکھ کر شہریوں کو نشانہ بنانا، یا کراچی چمن این اے 25 شاہراہ اور پہاڑوں میں پسینہ بہانے والے غریب مزدوروں کو شہید کرنا کوئی محب وطنی نہیں بلکہ سراسر دہشت گردی ہے۔
ترقی کا نہ رکنے والا سفر
ان تمام فکری حملوں اور منفی پروپیگنڈے کے باوجود ترقی کا سفر رکنے والا نہیں ہے۔ گوادر ایئرپورٹ کی فعالیت سے لے کر بنیادی ڈھانچے اور شاہراہوں کی تعمیر تک، ریاست اور عوام مل کر بلوچستان کی معاشی بحالی کے لیے پرعزم ہیں۔
سول سوسائٹی، عوام، حکومت اور مسلح افواج کے اس مشترکہ عزم کے سامنے دشمن کے تمام منصوبے ناکام ہوں گے۔ مسائل گرینڈ ڈائیلاگ سے حل ہوں گے، امن قائم ہوگا، اور فتح صرف اور صرف سچائی اور پاکستان کی ہوگی۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!



