پی ٹی ایم کا اقوام متحدہ کے سامنے احتجاج: پاکستان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ سے تیار کردہ سازش کا پردہ فاش

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

خبر کدا ویب ڈیکس: پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سیشن کے دوران یو این ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھانا ہے۔ یہ اقدام کسی بھی طرح انسانی حقوق کی کوئی تحریک نہیں ہے، بلکہ یہ ملک دشمن عناصر کی ایک ایسی گھناؤنی کوشش ہے جو غیر ملکی فنڈنگ کے بل بوتے پر پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈا کرنے کے لیے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو استعمال کر رہے ہیں۔

عالمی پلیٹ فارمز پر غدارانہ سازشیں: پی ٹی ایم کا یہ احتجاج دراصل پاکستان کی پشت میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ اس سے قبل بھی اس تنظیم کی جانب سے ڈیووس اور جنیوا جیسے بین الاقوامی فورمز پر جو احتجاج کیے گئے تھے، وہ تمام ایسے بیرونی نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر ترتیب دیے گئے تھے جن کا واحد مقصد پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کرنا ہے۔ اسے کسی بھی صورت میں سیاسی یا سماجی کارکنوں کی سرگرمی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ غیر ملکی مفادات کے لیے ملک کی عزت و وقار کا سودا کرنے کے مترادف ہے۔

دشت گردوں سے گہرے روابط اور شواہد: پی ٹی ایم کی جانب سے “مظالم” کے نام پر کیے جانے والے تمام دعوے ان کے اپنے دہشت گردی سے جڑے روابط کے بوجھ تلے دب کر ختم ہو جاتے ہیں۔ کابل پولیس کمانڈ کے ترجمان خالد زدران نے اپنی کتاب “15 منٹ” میں یہ انکشاف کیا ہے کہ منظور پشتین کے طالبان قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطے رہے ہیں اور پشاور میں پی ٹی ایم کے ایک اجتماع میں چالیس سے زائد طالبان جنگجوؤں نے خفیہ طور پر شرکت کی تھی۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کی قیادت نہ صرف دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتی ہے بلکہ ان کے ساتھ گٹ جوڑ کی حد تک جڑی ہوئی ہے۔

غیر ملکی فنڈنگ کے واضح ثبوت: تحقیقاتی اور مالیاتی ریکارڈز سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پی ٹی ایم یو کے کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو شاہد کاکڑ کو 8 مارچ 2026ء کو ایک بھارتی اکاؤنٹ سے تقریباً 11,000 برطانوی پاؤنڈز موصول ہوئے، جن کا براہِ راست تعلق لندن میں کیے جانے والے احتجاجی کال سے تھا۔ مالیاتی بیانات اور ٹرانزیکشنز کے یہ شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ پی ٹی ایم کی بین الاقوامی سرگرمیاں کوئی فکری یا زمینی تحریک نہیں ہیں، بلکہ یہ بیرونی طاقتوں کی طرف سے تیار کردہ وہ پلانڈ مہمات ہیں جن کا مقصد پاکستان کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔

ٹی ٹی پی کی پشت پناہی اور دوغلا پن: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنی کتاب “انقلابِ محسود” میں منظور پشتین کی کھلے عام تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “منصور کے مقاصد اور ٹی ٹی پی کے مقاصد ایک ہی ہیں”۔ جب ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں اور پشتونوں کے قاتل دہشت گرد گروہ کا سربراہ کسی تحریک کی کھل کر تائید کرے، تو وہ تحریک ہرگز انسانی حقوق کی تنظیم نہیں بلکہ دہشت گردی کا سیاسی ونگ بن جاتی ہے۔ پشتون شہریوں پر ہونے والے ٹی ٹی پی کے مظالم پر پی ٹی ایم کی مجرمانہ خاموشی کوئی اتفاق نہیں بلکہ ان کے آقاؤں کا حکم ہے۔

عدلیہ کے فیصلے اور ریاست مخالف کردار: پاکستان کی عدالتیں پی ٹی ایم کو پہلے ہی ریاست کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دے چکی ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے تمام اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پی ٹی ایم اور منظور پشتین پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔ حساس مواد کے جائزے کے بعد عدالتی سطح پر یہ ثابت ہوا کہ یہ تنظیم ملکی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کا فیصلہ اور دوغلا پن: آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے پی ٹی ایم کا ایونٹ منسوخ کیے جانے نے اس تنظیم کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ یونیورسٹی کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اس تقریب سے دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور مختلف نسلی گروہوں کے درمیان نفرت پھیلنے کا خطرہ تھا۔ اس کے باوجود پی ٹی ایم نے سفاکانہ جھوٹ بولتے ہوئے اسے “تکنیکی مسائل” کا نام دیا۔ آج یہی دھوکہ دہی وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر آزمانا چاہتے ہیں، لیکن اب دنیا ان کے جھوٹ کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔

پاک فوج کی قربانیاں اور محافظوں کا کردار: پاکستان کی مسلح افواج نے ان ہی کمیونٹیز کی حفاظت کے لیے 94,000 سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جن کی نمائندگی کا پی ٹی ایم جھوٹا دعویٰ کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کے نڈر پشتون سپاہی فرنٹ لائن پر ملک کا دفاع کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف پی ٹی ایم کی قیادت بیرون ملک بیٹھ کر غیر ملکی ایجنسیوں کے فنڈز پر اس ریاست پر حملے کر رہی ہے جو ان کے اپنے لوگوں کی محافظ ہے۔ وطن کی خاطر جان قربان کرنے والا ہر سپاہی غازی و شہید ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ملک کو نقصان پہنچانے والے ہر عنصر کی حقیقت سب کے سامنے عیاں ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »