بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی تارکینِ وطن جیسے پیچیدہ انتظامی و سیکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما رہا ہے۔ اس وسیع و عریض خطے میں محض روزمرہ کی انتظامی کارروائیوں سے پائیدار امن ممکن نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے جدید اور مضبوط فریم ورک کی ضرورت تھی جو ٹیکنالوجی، شفافیت اور مستحکم ادارہ سازی پر مبنی ہو۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبائی محکمہ داخلہ نے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی قیادت میں گزشتہ ایک سال کے دوران اہم اصلاحات نافذ کی ہیں۔ اس سفر کا بنیادی مقصد محض کاغذی قانون سازی تک محدود رہنا نہیں، بلکہ ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے فعال اور پائیدار ادارے قائم کرنا ہے۔
جامع قانونی اصلاحات اور جدید نظامِ انصاف
محکمہ داخلہ نے صوبے کے قانون نافذ کرنے والے اور فوجداری نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد اہم قوانین اور ترامیم متعارف کرائیں:
- گواہوں کا تحفظ اور فیس لیس کورٹس: حساس مقدمات میں ججز، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی سیکیورٹی کے لیے فیس لیس کورٹس اور گواہوں کے تحفظ کے قوانین لاگو کیے گئے۔
- جیل خانہ جات میں اصلاحات: “بلوچستان پریزن اینڈ کریکشنل سروس ایکٹ 2026″ اور “پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ” کے ذریعے قیدیوں کی اصلاح اور نظامِ اصلاح و تربیت کا آغاز کیا گیا۔
- جدید تحقیقاتی قوانین: بلوچستان فرانزک سائنس ایجنسی اور سیف سٹی اتھارٹی کے قیام کے لیے قانونی بنیادیں فراہم کی گئیں۔
غیر فعال اداروں کی بحالی اور متحرک کارروائی
صرف قانون سازی ہی نہیں، بلکہ ماضی کے غیر فعال یا محدود اداروں میں روح پھونک کر انہیں عملی طور پر متحرک کیا گیا:
- کاﺅنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم (CVE): اس سینٹر آف ایکسیلنس کو مکمل فعال بنایا گیا، جو اب شدت پسندی کے تدارک کے لیے تحقیقی اور شواہد پر مبنی پالیسیاں فراہم کر رہا ہے۔
- حراستی مراکز (Detention Centres): کوئٹہ میں حراستی مرکز کو فعال کیا گیا جبکہ تربت میں جدید مرکز کی تعمیر جاری ہے، جس سے حساس قیدیوں کی دیکھ بھال اور ریاستی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
نئے سیکیورٹی اداروں اور خصوصی سیلز کا قیام
ادارہ جاتی استحکام اور معلومات پر مبنی کارروائی کے لیے متعدد نئے اور خصوصی ادارے تشکیل دیے گئے:
| ادارہ / یونٹ | بنیادی ذمہ داری و مقصد |
| PIFTAC | انٹیلی جنس شیئرنگ، خطرات کے تجزیے اور اداروں کے باہمی رابطہ کاری کا مرکزی پوائنٹ۔ |
| BISA | مختلف محکموں اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مربوط سیکیورٹی نظام کی بنیاد۔ |
| BCRA | چیریٹیز، فلاحی تنظیموں، این جی اوز اور مدارس کی قانونی رجسٹریشن اور مانیٹرنگ۔ |
| خصوصی سیلز | ریڈ نوٹس، اینٹی الیگل اسپیکٹرم، اینٹی بھتہ گیری اور ہیومن ٹریفکنگ سیلز کا قیام۔ |
ٹیکنالوجی پر مبنی سیکیورٹی اور سیف سٹی پروجیکٹ
جدید سیکیورٹی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال یقینی بنایا گیا:
- سیف سٹی نیٹ ورک: ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے مختصر عرصے میں 100 سے زائد چوری شدہ گاڑیاں برآمد اور متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے۔ اس منصوبے کو دیگر شہروں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے۔
- حساس تنصیبات کا تحفظ: صوبہ بھر کی اہم سرکاری، تعلیمی اور طبی عمارتوں کے سیکیورٹی آڈٹ کیے گئے اور 1500 سے زائد مقامات پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے۔
- جدید ڈرون یونٹ: انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس اور انسدادِ منشیات کی مہمات کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔
غیر قانونی تارکینِ وطن کا انخلا اور انسدادِ منشیات کی تاریخی مہم
- 11 لاکھ غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی: ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز، اسپیشل برانچ اور فرنٹیئر کور (FC) کے باہمی تعاون سے تقریباً 11 لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کی منظم اور قانونی طریقے سے وطن واپسی یقینی بنائی گئی۔
- پوست کی کاشت کا خاتمہ: ڈرون سرویلنس اور مشترکہ زمینی کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست کو تلف کیا گیا، جو صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم ہے۔
- تمباکو کی غیر قانونی تجارت پر کریک ڈاؤن: ریکارڈ مقدار میں غیر قانونی تمباکو ضبط کر کے ٹیکس چوری اور بلیک مارکیٹ کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
انتظامی اصلاحات اور ایک محفوظ بلوچستان کا عزم
وسائل کے بہتر استعمال اور انتظامی ہم آہنگی کے لیے لیویز فورس کو پولیس میں جبکہ سول ڈیفنس کو اسپیشل برانچ میں ضم کرنے جیسے اہم فیصلے کیے گئے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کا یہ ایک سالہ سفر محض عارضی اقدامات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک محفوظ، مستحکم، پرامن اور ترقی یافتہ بلوچستان کی جانب ایک پائیدار سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔
