دہشت گردی صرف جسمانی تشدد کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی اخلاقیات، امن اور سماجی نظم و ضبط پر ایک حملہ ہے۔ جب انتہا پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی تحریک کا دھونس جما کر کارروائیاں کرتے ہیں، تو وہ اخلاقیات، اور بنیادی انسانی اصولوں سے عاری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ اور روشن مثال خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں دیکھنے کو ملی، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بزدلانہ حملے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ہمدردی اور رحم دلی کا ایک مصنوعی ڈرامہ رچایا گیا۔

سنگین تشدد اور اس کے فوری بعد ڈیجیٹل پروپیگنڈے کا یہ سلسلہ دہشت گرد تنظیموں کے جدید ورکنگ سٹائل کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔
حملہ: ریاست اور معاشرے کے محافظوں پر وار
ہنگو میں ہونے والے اس ٹارگٹڈ حملے میں ایک ڈی ایس پی (DSP) سمیت پولیس کے 9 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 28 افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ روزمرہ کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے تھے تا کہ عوام کو امن کی فضاء فراہم کی جائے۔
پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا دراصل عمومی عوامی تحفظ کے پورے نظام پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے ادارے طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کی تاریخی قربانیاں:
• 2001ء سے تا حال : 2,413 اہلکار شہید
• 1970ء سے تا حال : 2,659 اہلکار شہید
یہ اعداد و شمار صرف ہندسے نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک عدد ایک اجڑے ہوئے خاندان، باپ کی الفت سے محروم بچوں اور فرض شناس اہلکاروں سے محروم ہو جانے والے معاشرے کی کہانی سنا رہا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں پروپیگنڈے کی حقیقت
ہنگو واقعے کے فوراً بعد ایک گھناؤنا کھیل کھیلا گیا۔ بے گناہ لوگوں کا خون بہانے کے چند ہی گھنٹوں بعد، حملے کے ذمہ داروں نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل کیں جن میں انہیں زخمیوں میں پیسے بانٹتے اور کیمروں کے سامنے ہمدردی کا ڈرامہ کرتے دکھایا گیا۔
یہ طریقہ کار نہ تو نیا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی سچائی ہے۔ یہ ایک سوچا سمجھا نفسیاتی حربہ ہے جس کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
- جرم پر پردہ ڈالنا: اپنے وحشیانہ تشدد سے پیدا ہونے والے عوامی غصے اور اخلاقی نفرت کو مصنوعی خیرات کے ذریعے کم کرنے کی کوشش۔
- مجبوری کا فائدہ اٹھانا: اپنے ہی پھیلائے ہوئے تشدد اور تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی لاچاری اور جسمانی تکلیف کا استحصال کرنا۔
- جعلی بیانیہ بنانا: سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا تاکہ سادہ لوح عوام کو گمراہ کیا جا سکے جہاں اصل سچائی کو آسانی سے چھپایا جا سکتا ہے۔
اس سوچ کی بنیادی غلطی بالکل واضح ہے: اس طرح کی تصوریں ان ہاتھوں کے خون کے دھبے نہیں دھو سکتے۔ جو گروہ مسلسل بازاروں پر بم دھماکے کرتا ہو، مساجد کو نشانہ بناتا ہو، سکولوں کو تباہ کرتا ہو اور پولیس اہلکاروں کو شہید کرتا ہو، وہ کیمرے کے سامنے چند نوٹ بانٹ کر کبھی “مسیحا” نہیں بن سکتا۔
دہشت گردوں کی معاشی حقیقت
بلند و بانگ دعوؤں اور ڈیجیٹل مہمات کے پیچھے ان گروہوں کا اصل چہرہ ایک خالص مجرمانہ کاروبار ہے۔ اس خطے میں کام کرنے والے جدید پرتشدد گروہ عوام کی حمایت کے بجائے مکمل طور پر غیر قانونی اور مجرمانہ مالیاتی شبکوں (Networks) پر انحصار کرتے ہیں۔
| مالیاتی ذریعہ | عملی اثرات |
| بھتہ خوری | مقامی تاجروں، کاروباروں اور ترقیاتی منصوبوں سے تشدد کی دھمکی دے کر باقاعدہ رقم وصول کرنا۔ |
| اغوا برائے تاوان | نجی اور معزز شہریوں کو اغوا کر کے فوری فنڈز حاصل کرنا۔ |
| منشیات کی اسمگلنگ | علاقائی تجارتی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے منشیات کی نقل و حمل سے بھاری منافع کمانا۔ |
| غیر ملکی سرپرستی | مقامی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بیرونی عناصر سے مالی و مادی امداد حاصل کرنا۔ |
اگر ان کے نظریاتی بیانیے کا نقاب ہٹا کر دیکھا جائے تو یہ تنظیمیں بین الاقوامی مجرمانہ گروہوں کی طرح کام کرتی ہیں، جو اپنے کاروباری مفادات کی حفاظت اور عام لوگوں کے استحصال کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہیں۔
نتجہ: فریب کی بھی ایک حد ہوتی ہے
شدید تشدد اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کا یہ ملغوبہ اس خام خیالی پر مبنی ہے کہ عوام سچی خدمت اور کیمرے کے سامنے کیے جانے والے ڈرامے میں فرق نہیں کر سکتے۔ تاہم، دہائیوں سے جاری اس جنگ اور قربانیوں نے خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کو حقائق پرکھنے کی مکمل بصیرت دے دی ہے۔
ریاستی وردی پر حملہ دراصل خود ریاست پر حملہ ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل دنیا میں پروپیگنڈا مہمات جدید ہو رہی ہیں، ویسے ہی ان گروہوں کے آن لائن بیانیے اور ان کے حقیقی بربرانہ افعال کے درمیان فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ حقیقی عزائم اور مقبولیت انسانوں کی حفاظت اور قانون کی بالادستی سے ثابت ہوتی ہے—سوشل میڈیا پر رچائے گئے چند لمحوں کے سستے شو سے نہیں۔