
یہ اجلاس حب کے صنعتی شہر میں منعقد ہوا اور اسے سندھ اور بلوچستان کی پولیس قیادت کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور مربوط قانون نافذ کرنے کے لیے پہلی باضابطہ مشترکہ حکمتِ عملی کا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں سندھ پولیس کی جانب سے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی آزاد خان، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ذوالفقار لارک، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ، ڈی آئی جی اسد رضا، ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی، ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر شریک ہوئے۔
بلوچستان پولیس کی نمائندگی ڈی آئی جی قلات رینج وزیر خان ناصر، ایس ایس پی حب مرزا بلال حسن، ڈی ایس پی حب امام بلوچ اور اسپیشل برانچ کے علاقائی افسر ذوالفقار بلوچ نے کی۔
دونوں صوبوں کے پولیس حکام نے دہشت گردوں، اسمگلروں اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی سندھ اور بلوچستان کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت روکنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا۔
اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی شاہراہوں اور دیگر راستوں پر دونوں صوبوں کی پولیس کی مشترکہ گشت شروع کرنے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سرحدی علاقوں میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے مضبوط بنانے کے لیے اہم مقامات پر نئی سیکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔
پولیس حکام نے جرائم کے خاتمے اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور بین الصوبائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ بھی طے پایا کہ دونوں صوبوں کی پولیس فورسز کے درمیان اگلا رابطہ اجلاس سندھ میں منعقد کیا جائے گا۔
کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان نے بتایا کہ منشیات اور اسلحے کے اسمگلروں کے خلاف عملی اقدامات کے لیے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ کراچی سے چوری ہونے والی گاڑیاں بلوچستان منتقل کرکے وہاں فروخت کی جا رہی ہیں، جس کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔