
خبرکداویب ڈیکس: بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی جانب سے جنیوا میں منعقدہ “12ویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس” اور اس میں برطانیہ مقیم مبصر شاہد قاضی کی بطور اسپیکر شمولیت نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی فورمز کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے مبینہ “انسانی حقوق” اور “آزادی” کے پلیٹ فارمز دراصل دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور بیانیہ سازی (Narrative Laundering) کا تسلسل ہیں۔
اہم نکات:
- بیانیے کی حقیقت: “دی انمیوٹڈ وائس” کے میزبان شاہد قاضی اور دیگر شرکاء کا مسلسل پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرنا اور “فری بلوچستان” کے نعرے بلند کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز غیر جانبدار نہیں ہیں۔
- دشت گردوں سے گہرے روابط: بی این ایم (BNM) جیسی تنظیمیں بظاہر سیاسی چہرے کے پیچھے چھپتی ہیں، لیکن ان کی قیادت—بشمول چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ—کے کالعدم عسکریت پسند گروہوں (جیسے بی ایل اے اور بی ایل ایف) کی مجید بریگیڈ اور دیگر عسکری ونگز کے ساتھ تاریخی اور نظریاتی روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
- دوغلا پن اور منافقت: بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ریاست پر یک طرفہ الزامات عائد کیے جاتے ہیں جبکہ خود انہی تنظیموں کے ہاتھوں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں، معصوم شہریوں کے قتل اور جبری بھرتیوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
- بین الاقوامی رسائی کا غلط استعمال: جنیوا جیسے شہروں میں کانفرنسیں منعقد کرنے یا مہنگے ہال بک کروانے سے کوئی تنظیم یا پلیٹ فارم قانونی یا اخلاقی جواز حاصل نہیں کر سکتا۔
اہم پنچ لائنز:
- آزادی کے نام پر ہونے والی ایسی کانفرنسیں وکالت نہیں بلکہ صرف بیانیے کی لانڈرنگ (Narrative Laundering) ہیں۔
- جو صحافی ملک توڑنے کی مہمات کا حصہ بنیں، وہ کبھی غیر جانبدار مبصر نہیں ہو سکتے۔
- بیرون ملک نرم سفارت کاری کے پلیٹ فارمز اور زمین پر جاری خونی تشدد، ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
- جنیوا میں کمرے بک کروانے سے دہشت گردی کی سرپرستی کو قانونی حیثیت نہیں مل سکتی۔



