
(ویب ڈیسک): افغانستان بھر میں طالبان رجیم کے خلاف اینٹی طالبان مزاحمتی گروہوں کی کارروائیوں میں ڈرامائی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران کابل، قندھار، ہرات، بدخشاں اور ننگرہار سمیت متعدد اہم صوبوں میں ہونے والے حملوں نے طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے پر دباؤ میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔
مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں اور ہلاکتیں
مختلف صوبوں میں AFF، AUF، NRF اور ‘افغانستان گرین ٹرینڈ’ سمیت دیگر مسلح گروہوں نے طالبان کی چوکیوں، سیکیورٹی پوزیشنز اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 27 طالبان اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔
اہم صوبائی واقعات کی تفصیلات
- غزنی (28 اگست): افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) نے پہلی گوریلا کارروائی کرتے ہوئے طالبان یونٹ 06 کے نائب کمانڈر ملا عمر صدیق کو ہلاک کر دیا اور ان کا اسلحہ قبضے میں لے لیا۔
- بدخشاں: ضلع زیبک میں شدید جھڑپوں کے بعد AFF نے کابل سے بھیجی گئی طالبان کی تازہ دم نفری کو پسپا کر دیا، جس میں طالبان کو بھاری جانی و مادی نقصان اٹھانا پڑا۔
- لغمان: ‘افغانستان گرین ٹرینڈ’ نے طالبان وزارتِ دفاع کی رینجر گاڑی پر حملہ کر کے 9 طالبان اہلکار ہلاک کر دیے۔
- ہرات: نیشنل ریسسٹنس فرنٹ (NRF) کی کارروائی میں طالبان کی ‘الفاروق کور’ کا انٹیلی جنس کمانڈر شدید زخمی ہو گیا۔
- ہلمند (30 اگست): افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (AUF) نے نوزاد میں دو مورچوں اور چوکی پر حملہ کر کے 9 اہلکار ہلاک کیے، جبکہ ایم 16، کلاشنکوفیں اور آر پی جی لانچر بھی قبضے میں لے لیے۔
- دیگر صوبے: کنڑ، جلال آباد (ننگرہار)، فاریاب، غور اور قندھار میں بھی AUF نے ٹارگٹڈ کارروائیاں کیں جس میں متعدد طالبان اہلکار مارے گئے۔
طالبان انتظامیہ کے لیے بڑھتے چیلنجز
شمال سے لے کر جنوب تک یکمشت پھیلنے والی یہ مسلح کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف عوام اور مختلف گروہوں کی مسلح مخالفت کی لہر تیز ہو رہی ہے، جس سے ملک بھر میں ان کا کنٹرول شدید متاثر ہو رہا ہے۔



