
اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ اور فتح مکہ محض دو تاریخی واقعات نہیں بلکہ سفارت کاری، عدم تشدد اور انسانی وقار کی بحالی کے ابدی نمونے ہیں۔ جب مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو قریش نے انہیں روک دیا، اور جنگ چھڑنے کا قوی امکان پیدا ہو گیا۔ نبی کریم ﷺ نے خونریزی سے بچنے کے لیے کمالِ ضبط کا مظاہرہ کیا۔
معاہدے کی شرائط بظاہر اس قدر ناموافق تھیں کہ حضرت عمر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی سخت بے چین ہو گئے، مگر نبی کریم ﷺ نے وقتی جذبات اور قلیل مدتی تنقید پر دس سالہ دیرپا امن کو ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس معاہدے نے مسلمانوں کو عرب میں تسلیم شدہ سیاسی قوت بنا دیا، اور صلح حدیبیہ کے بعد کے محض دو سالوں میں اتنے لوگ اپنی مرضی سے اسلام میں داخل ہوئے جتنے اس سے پہلے کے اٹھارہ سالوں میں نہیں ہوئے تھے—امن اور مکالمہ تلوار سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔
دو سال بعد جب قریش نے اپنے حلیف بنو بکر کی مدد سے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر رات کے اندھیرے میں حملہ کر کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی، تو فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس موقع پر مسلمانوں کے پاس بیس سالہ مظالم، قتل و غارت اور جبری ہجرت کا بدلہ لینے کا مکمل اخلاقی اور قانونی جواز موجود تھا، مگر نبی کریم ﷺ نے اس مہم کو انتقام کے بجائے ایک اعلیٰ اخلاقی فریم ورک کے تحت ترتیب دیا۔
خونریزی سے بچنے کے لیے لشکر کی روانگی خفیہ رکھی گئی، مکہ کے قریب پہنچ کر دس ہزار صحابہ کو رات کے وقت الگ الگ آگ جلانے کا حکم دیا گیا جس سے دشمن پر نفسیاتی رعب طاری ہوا، اور شہر کو مختلف اطراف سے اس طرح گھیرا گیا کہ کسی منظم مسلح مزاحمت کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔
شہر میں نبی کریم ﷺ کا داخلہ فاتحانہ غرور کے بجائے کمالِ عاجزی کا مظہر تھا—سرِ مبارک بار بار اونٹنی کے کجاوے سے چھو رہا تھا۔ آپ ﷺ نے قریش کے جانی دشمنوں کو، جو کعبہ کے صحن میں خوف سے کانپ رہے تھے، معافی دیتے ہوئے فرمایا: “جاؤ، تم سب آزاد ہو۔” اسی موقع پر ایک سابقہ حبشی غلام، حضرت بلال ؓ، کو خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا شرف بخشا گیا—ثابت ہوا کہ فتح کا معیار نسب یا قبائلی غرور نہیں بلکہ تقویٰ اور انسانی وقار ہے۔
یہ دونوں واقعات ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ اسلام میں فتح دشمن کو نیست و نابود کرنے کا نام نہیں، بلکہ اصولوں کی بقا، انسانی جان کے احترام اور اخلاقیات کی بالا دستی کا نام ہے—وہ معیار جو آج کے دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کو “فتح” یا “جہاد” کہتے ہوئے مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔



