
اسلام امن، عدل اور رحمت پر مبنی دین ہے، مگر عصرِ حاضر میں شاید کسی اسلامی اصطلاح کو اتنا مسخ نہیں کیا گیا جتنا لفظ “فتح” کو کیا گیا ہے۔ عام مفہوم اور مغربی سیاسیات میں فتح سے مراد کسی دوسری قوم پر فوجی قبضہ اور اسے زیر کرنا لیا جاتا ہے، اور دہشت گرد تنظیموں نے اسی محدود اور مسخ شدہ مفہوم کو اپنی کارروائیوں کے جواز کے لیے استعمال کیا۔ قرآنی اصطلاحات کا گہرا مطالعہ اس غلط فہمی کی بنیاد ہی ختم کر دیتا ہے۔
قرآن میں نصر، فتح اور فوز کے درمیان ایک گہرا اور درجہ بند فرق موجود ہے۔ نصر کا لسانی مادہ ‘ن، ص، ر’ ہے، جس کا مطلب خدائی مدد اور تائید ہے—وہ غیبی مدد جو صبر اور استقامت کے بدلے ملتی ہے۔ فتح کا مادہ ‘ف، ت، ح’ ہے، جس کا لغوی معنی کھولنا اور رکاوٹ دور کرنا ہے، بند کرنا یا مٹانا نہیں۔ فوز کا مادہ ‘ف، و، ز’ ہے، جس کا مطلب ابدی کامیابی اور اللہ کی رضا ہے۔ یہ تینوں مل کر ایک ترتیب بناتے ہیں: خدائی مدد کا نتیجہ دلوں کی کشادگی، اور اس کا حتمی ہدف اللہ کی رضا ہے۔
اس فرق کی سب سے واضح مثال سورۃ الفتح ہے۔ یہ سورت کسی جنگی معرکے کے بارے میں نازل نہیں ہوئی بلکہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کے بارے میں نازل ہوئی، جس میں نہ کوئی خون بہا، نہ کسی علاقے پر قبضہ ہوا، بلکہ ایک ایسا امن معاہدہ طے پایا جس کی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف معلوم ہوتی تھیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے “فتح مبین” یعنی کھلی اور واضح فتح قرار دیا، اور اسے غزوہ بدر جیسی عسکری فتوحات سے بھی بڑا مقام دیا۔
اللہ تعالیٰ کے ننانوے صفاتی ناموں میں سے ایک نام “الفتاح” ہے—وہ عظیم ذات جو رحمت، رزق اور ہدایت کے دروازے کھولتی ہے اور حق و باطل کے درمیان حتمی فیصلہ کرتی ہے۔ یہ نام خود اس بات کا ثبوت ہے کہ فتح کا تعلق کھولنے اور کشادگی سے ہے، تباہی اور بربادی سے نہیں۔
اس کے بالکل برعکس، دہشت گرد گروہوں اور ان کے پروپیگنڈے نے فتح کو زمین کے حصول، مادی وسائل پر قبضے اور مخالفین کی لاشوں پر جشن منانے کا نام دے دیا ہے۔ یہ محض ایک لسانی غلطی نہیں بلکہ قرآنی تعلیمات کی صریح نفی اور جہالت پر مبنی موقف ہے، جس کا مقصد مذہبی جذبات کو اپنے سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسلام میں فتح کا اصل محور جغرافیائی تسخیر نہیں بلکہ انسانی دلوں کی تسخیر، عدل کا قیام اور انسانی وقار کی بحالی ہے۔ اس حقیقی، قرآنی مفہوم کو ہر خطبے، ہر نصاب اور ہر میڈیا پلیٹ فارم پر دہرایا جانا چاہیے تاکہ دہشت گرد بیانیے کی بنیاد کمزور کی جا سکے۔



