
(ویب ڈیسک): بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بے حسی اور سفاکیت کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے 30 سالہ عام شہری عورت مہگل کو اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا۔
واقعات کے مطابق 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی رات فتنۃ الہندوستان کے مسلح دہشت گرد تربت، کیچ کے علاقے کلاگ میں سول محمد کے گھر میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کی 30 سالہ زوجہ مہگل کو زبردستی اغوا کر کے لے گئے۔ اگلے ہی روز تربت یونیورسٹی کے قریب سے مہگل کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی، جس سے علاقے میں شديد خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ اندوہناک واقعہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور فتنۃ الہندوستان کا اصل نشانہ کوئی اور نہیں بلکہ عام اور بے گناہ شہری ہیں۔ اس سے قبل نوشکی میں بھی بی بی حنیفہ اور ان کی 17 سالہ بیٹی بی بی حفصہ کو اسی طرح سفاکیت سے قتل کیا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد اب گھروں میں داخل ہو کر معصوم خاندانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ایک نہتی عورت کے اغوا اور قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی بات کرنے والے اور خود ساختہ تنظیمیں BLA اور BLF کے ان بزدلانہ اقدامات اور شہریوں کے قتلِ عام پر خاموش کیوں ہیں؟
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامي انتظامیہ نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مہگل کے اغوا اور قتل میں ملوث عناصر اور فتنۃ الہندوستان کے اس نیٹ ورک کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو بھی شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔



