
تحریک طالبان پاکستان عرف فتنۃ الخوارج کی جانب سے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور بالخصوص قبائلی اضلاع میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں اور سکیورٹی فورسز کے شدید نقصانات کے دعوے دراصل ایک باقاعدہ منظم نفسیاتی جنگ اور انفارمیشن وارفیئر کا حصہ ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار اور آزادانہ تحقیقات اس حقیقت پر سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ اس تنظیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیشتر بیانیے، حملوں کی رپورٹس اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار یا تو مکمل طور پر من گھڑت ہیں، غیر مصدقہ ہیں یا پھر انہیں انتہائی مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ جب ہم زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو دہشت گرد پروپیگنڈے اور اصل صورتحال کے درمیان ایک بہت بڑا خلیج نظر آتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیو
ٹ فار پیس اسٹڈیز اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے ریکارڈز یہ واضح کرتے ہیں کہ فتنۃ الخوارج کے دعوؤں میں سے نصف کی آزادانہ تصدیق ممکن ہی نہیں، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں سے متعلق ان کے پیش کردہ اعداد و شمار میں سے محض ۱۹ فیصد ہی سچ ثابت ہوتے ہیں۔

میدانِ جنگ میں درپیش شدید آپریشنل نقصانات اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کو چھپانے کے لیے یہ تنظیم حقائق کو مروڑ کر پیش کرنے پر مجبور ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے دیے گئے حالیہ ڈیٹا کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے صرف 2026 میں اب تک 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں، جس کا مطلب روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 194 کارروائیاں بنتا ہے اور ان آپریشنز میں 2,084سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں جب دہشت گردوں کا عملی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے، تو وہ اپنی بقا اور فرضی طاقت کی دھاک بٹھانے کے لیے ہر ممکن غیر متعلقہ واقعے کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاندانی تنازعات، زمین کے جھگڑے، ذاتی دشمنیاں اور عام جنائی جرائم جن کا دہشت گردی سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا، انہیں بھی اپنے آپریشنل اثر و رسوخ کے طور پر مشہور کر دیا جاتا ہے۔ صحافی ہارون خان کا کیس اس نفسیاتی چال کی ایک واضح مثال ہے جہاں قتل کے پیچھے دہائیوں پرانا جائیداد کا جھگڑا تھا، مگر تنظیم نے اسے فوراً اپنے کریڈٹ پر لے لیا۔ اسی طرح ایک سابق قوم پرست و امن کمیٹی رہنما کے قتل کی ذمہ داری بھی اپنے سر لی گئی جبکہ درحقیقت وہ ان کے کزن سے مسلح جھڑپ کا نتیجہ تھا۔

اس مبالغہ آرائی اور جھوٹے دعوؤں کے پیچھے انتہائی گہرے مقاصد چھپے ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو یہ گروہ اپنی شکست اور آپریشنل ناکامیوں کو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس مصنوعی تاثر کی بدولت بیرونِ ملک قائم نیٹ ورکس سے مالی معاونت اور نئے گمراہ کن نوجوانوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ایک ہی وقت میں ایک واقعے کی ذمہ داری دو سے تین مختلف نام نہاد تنظیمیں قبول کرتی ہیں، تو اس سے ان کے اندرونی مقابلے اور برتری کی جنگ کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ اس پروپیگنڈے کو سرحد پار بالخصوص بھارت اور افغانستان میں قائم چند سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ڈیجیٹل تقویت دی جاتی ہے تاکہ پاکستان کے عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے اور سکیورٹی اداروں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تر عمل کا طریقہ کار چار بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے: دعویٰ کرنا، مبالغہ آرائی، غلط نسبت اور مسلسل تشہیر۔ جب تک عام شہری اور ذرائع ابلاغ اس فتنہ انگیز نفسیاتی چال کو نہ سمجھیں، تب تک غیر مصدقہ بیانیے حقیقت کا روپ دھارتے رہیں گے، جبکہ سچ یہی ہے کہ یہ تنظیم اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے اور اب صرف پروپیگنڈے کی بنیاد پر زندہ رہنے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔


