افغانستان کا بگڑتا منظرنامہ اور اقوامِ متحدہ کی چونکا دینے والی رپورٹ
Post

افغانستان کا بگڑتا منظرنامہ اور اقوامِ متحدہ کی چونکا دینے والی رپورٹ

عالمی برادری اور خاص طور پر خطے کے ممالک طویل عرصے سے جس خدشے کا اظہار کر رہے تھے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم (UNMT) کی حالیہ رپورٹ نے اس پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ عالمی ادارے کی یہ رپورٹ محض چند واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس بات کا احاطہ کرتی ہے کہ کس طرح افغان سرزمین آج بھی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور سازگار مسکن بنی ہوئی ہے۔

11 اگست کا مغالطہ اور بلوچستان کی تاریخی و آئینی حقیقت
Post

11 اگست کا مغالطہ اور بلوچستان کی تاریخی و آئینی حقیقت

حال ہی میں بعض بیرونی ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی و فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک منظم معلومات کی جنگ (Cognitive Warfare) کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں 11 اگست کو "یومِ آزادیِ بلوچستان" کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس بیانیے کو تقویت دینے کے لیے چند سیاسی کرداروں اور تاریخی حقائق سے ناواقف طبقے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

قانون سازی سے ادارہ سازی تک: حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کا ایک سالہ تعمیری سفر
Post

قانون سازی سے ادارہ سازی تک: حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کا ایک سالہ تعمیری سفر

بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی تارکینِ وطن جیسے پیچیدہ انتظامی و سیکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما رہا ہے۔ اس وسیع و عریض خطے میں محض روزمرہ کی انتظامی کارروائیوں سے پائیدار امن ممکن نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے جدید اور مضبوط فریم ورک کی ضرورت تھی جو ٹیکنالوجی، شفافیت اور مستحکم ادارہ سازی پر مبنی ہو۔

سوات میں خودکش حملہ: سرحدی دہشت گردی کا فتنہ اور ریاست کا دوٹوک جواب
Post

سوات میں خودکش حملہ: سرحدی دہشت گردی کا فتنہ اور ریاست کا دوٹوک جواب

سوات کے علاقے کبل کے پولیس اسٹیشن پر افغان فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خودکش بمبار کا حملہ صرف ایک سیکیورٹی تنصیب پر حملہ نہیں، بلکہ انسانیت، اسلام اور پاکستان کی امن پسندی پر ایک بزدلانہ ضرب ہے۔ اس ناپاک کارروائی کے نتیجے میں 7 پولیس اہلکاروں اور 10 عام شہریوں سمیت 17 بے گناہ افراد شہید جبکہ 12 افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ لرزہ خیز واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسند گراؤنڈ پر مکمل طور پر پسپا ہونے کے بعد اب بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آئے ہیں۔

رحم دلی کا جعلی نقاب: جدید دہشت گردی کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا پردہ فاش
Post

رحم دلی کا جعلی نقاب: جدید دہشت گردی کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا پردہ فاش

دہشت گردی صرف جسمانی تشدد کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی اخلاقیات، امن اور سماجی نظم و ضبط پر ایک حملہ ہے۔ جب انتہا پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی تحریک کا دھونس جما کر کارروائیاں کرتے ہیں، تو وہ اخلاقیات، اور بنیادی انسانی اصولوں سے عاری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ اور روشن مثال خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں دیکھنے کو ملی، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بزدلانہ حملے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ہمدردی اور رحم دلی کا ایک مصنوعی ڈرامہ رچایا گیا۔

فاطمہ بلوچ: ایک نام، کئی سوالات
Post

فاطمہ بلوچ: ایک نام، کئی سوالات

ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں معلومات تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ گمنام شناختوں، فرضی ناموں اور منظم معلوماتی مہمات کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان سے متعلق موضوعات پر لکھنے والے بعض مصنفین کے بارے میں بھی ایسے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ انہی ناموں میں سے ایک نام "فاطمہ بلوچ" کا ہے۔

بلوچستان میں پائیدار امن اور خوشحالی: ریاستی عزم سے جامع حکمتِ عملی تک
Post

بلوچستان میں پائیدار امن اور خوشحالی: ریاستی عزم سے جامع حکمتِ عملی تک

بلوچستان کی سیکیورٹی اور ترقیاتی صورتِ حال پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حالیہ مشترکہ اعلامیہ ریاستی ارادے اور وژن کی ایک واضح عکاسی کرتا ہے۔ کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صوبے میں "دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی...