سیاست میں اختلافِ رائے، تنقید اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جمہوری عمل کا ایک لازمی اور فطری حصہ ہے۔ تاہم، جب سیاسی بیانیہ حقائق سے لاتعلق ہو کر محض جذباتی نعرے بازی اور ریاست مخالف فریم ورک پر مبنی ہو جائے، تو وہ حل کے بجائے مزید انارکی کو جنم دیتا ہے۔ حال ہی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی جانب سے کراچی پریس کلب میں دی جانے والی طویل تقریر بھی اسی رجحان کی ایک کڑی ہے، جس میں تاریخی شکوک و شبہات، مذہبی حوالے اور سیاسی مطالبات کو ایک ایسے انداز میں گڈمڈ کیا گیا جو زمینی حقائق سے یکسر دور ہے۔








